Monday, June 2, 2025

انناس – صحت سے بھرپور ایک مزیدار پھل

  انناس – صحت سے بھرپور ایک مزیدار پھل


مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے *

 انناس میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو جسم کے دفاعی نظام کو طاقت دیتا ہے۔ یہ بیماریوں سے بچاتا ہے اور جلد صحتیابی میں مددگار ہوتا ہے۔

 نظامِ ہاضمہ بہتر کرتا ہے *

انناس میں "برومیلین" نامی ایک قدرتی انزائم ہوتا ہے، جو خوراک کو جلد ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اور معدے کی گرانی، گیس یا قبض جیسے مسائل کو کم کرتا ہے۔


 سوزش اور درد میں کمی لاتا ہے *

برومیلین جسم کی سوجن، جوڑوں کے درد اور چوٹوں کے بعد ہونے والی سوزش کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، خاص طور پر گٹھیا (arthritis) کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔


 وزن گھٹانے میں مدد دیتا ہے *

انناس میں فائبر زیادہ اور کیلوریز کم ہوتی ہیں، جو پیٹ کو دیر تک بھرا ہوا محسوس کرواتی ہیں۔ اس سے اضافی کھانے کی خواہش کم ہو جاتی ہے۔


 جلد کو صحت مند بناتا ہے *

وٹامن C کولیجن بنانے میں مدد دیتا ہے، جو جلد کو جوان، نرم اور چمکدار رکھتا ہے۔ انناس کے اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو نقصان سے بچاتے ہیں۔


 آنکھوں کی بینائی کا تحفظ *

انناس میں بیٹا کیروٹین اور وٹامن A موجود ہوتے ہیں، جو آنکھوں کو صحت مند رکھتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ آنکھوں کی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔


 دل کی صحت بہتر بناتا ہے *

پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ یہ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں اور دل کو مضبوط بناتے ہیں۔


 ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے *

انناس میں "مینگنیز" پایا جاتا ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی اور نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ یہ ہڈیوں کے ساتھ ساتھ جوڑوں کو بھی طاقت دیتا ہے۔


 کینسر سے بچاؤ میں مددگار *

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ انناس میں موجود مرکبات، خاص طور پر برومیلین، نقصان دہ خلیات کی افزائش کو سست کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ علاج نہیں ہے، لیکن صحت مند غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔


 جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے *

انناس تقریباً 86 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جو جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ گرمیوں میں یہ ایک بہترین، قدرتی مشروب جیسا اثر دیتا ہے۔



 استعمال کے مفید مشورے *

میشہ تازہ انناس کو ترجیح دیں۔

ٹن یا ڈبے والے انناس سے پرہیز کریں، کیونکہ ان میں اکثر چینی ملی ہوتی ہے۔

انناس کو اسموتھی، سلاد یا گرِلڈ کھانوں میں شامل کر کے مزیدار طریقے سے استعمال کریں. 

No comments:

Post a Comment